ابنا: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما اسماعیل رضوان نے الکرامہ کشتی پر اسرائیل کے حملے کو بحری قزاقی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائيل کے خلاف ان غیر انسانی اقدامات کی بنا پر مقدمہ چلایا جانا چاہۓ۔ فلسطینی جماعتوں کے نمائندوں نے عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت عالمی اور عرب تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قدس کی غاصب حکومت کے مجرمانہ اقدامات اور محاصرے کے خاتمے کے لۓ اقدامات انجام دیں ۔ صہیونی فوج کے کمانڈوز نے گزشتہ روز فرانسیسی کشتی الکرامہ پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ یہ کشتی کاروان آزادی دو میں شامل ہے اور یونان کے ساحل سے غزہ پٹی کی جانب جارہی تھی اور اس میں صرف انسان دوستی پر مبنی امداد اور انسانی حقوق کے کارکن سوار تھے۔ گزشتہ برس غزہ پٹی کے لۓ انسان دوستانہ امداد لے جانے والے کاروان آزادی ایک پرصہیونی کمانڈوز کے حملے میں ترکی کے نو شہری جاں بحق ہوگۓ تھے۔ واضح رہے کہ صہیونی ریاست نے سنہ دو ہزار سات سے غزہ پٹی کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے۔ غزہ پٹی کے لۓ انسان دوستانہ امداد لے جانے والی کشتی پر صہیونی کمانڈوز کا حملہ اور اس کشتی پر سوار انسانی حقوق کے کارکنوں پر تشدد بحری قزاقی اور جنگی جرائم کا واضح مصداق ہے ۔ صہیونی ریاست کے اقدامات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ حکومت عالمی حقوق کو کوئي اہمیت نہیں دیتی ہے اور اپنے اقدامات کے ذریعے واضح ترین اخلاقی اور قانونی اصولوں کو پائمال کررہی ہے۔ یورپی حکومتوں کی حمائت اور عالمی اداروں کی جانب سے اس حکومت کے خلاف کوئي اقدام نہ کۓ جانے کی وجہ سے یہ حکومت اپنے مظالم اور جرائم کا سلسلہ جاری رکھنے میں زیادہ جری ہوگئي ہے۔ عالمی اداروں نے ایسی حالت میں صہیونی ریاست کے مظالم پر خاموشی سادھ رکھی ہے کہ جب صہیونی ریاست کے جرائم سے متعلق اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کی تحقیقاتی رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس حکومت نے بارہا ملت فلسطین کے خلاف مظالم کا ارتکاب کیا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے صہیونی ریاست کے جرائم کی روک تھام کے لۓ عملی طور پر کوئي اقدام انجام نہیں دے رہے ہیں مثلا بائیس روزہ جنگ میں غزہ کے فلسطینوں کے قتل عام کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی گولڈ اسٹون تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے جامع اور کامل رپورٹ پیش کۓ جانے کے باوجود اس رپورٹ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی آرکائیو میں محفوظ کردیا گیا اور اسرائیل کے خلاف ہر گز مقدمہ نہیں چلایا گيا۔ حالانکہ سنہ دو ہزار نو میں پیش کی جانے والی گولڈ اسٹون رپورٹ میںصہیونی ریاست کو واضح طور پر ایسا جنگی مجرم قرار دیا گيا کہ جس نے غزہ پر حملے کے دوران انسانیت پر مظالم ڈھانےکا ارتکاب کیا۔ عالمی اداروں کی جانب سے صہیونی ریاست کے خلاف کوئی اقدام نہ کۓ جانےکی وجہ سے ہی یہ حکومت آسودہ خاطر ہو کر اپنے مظالم کا سلسلہ جاری رکھے ہوۓ ہے۔..............
/169